Sunday, 2 January 2022

وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک

 وجود مٹ گیا پروانوں کے سنبھلنے تک

دھواں ہی اٹھتا رہا شمع کے پگھلنے تک

کسے نصیب ہوئی اس کے جسم کی خوشبو

وہ میرے ساتھ رہا راستہ بدلنے تک

اگر چراغ کی لو پر زبان رکھ دیتا

زبان جلتی بھی کب تک چراغ جلنے تک

جہاں بھی ٹھہرو گے رک جائے گا تمہارا وجود

تمہارے ساتھ چلے گا تمہارے چلنے تک

ابھی سے راہ میں نظریں بچھا کے مت بیٹھو

پلٹ کے آئے گا وہ آفتاب ڈھلنے تک

ہوا کا کیا ہے نہ جانے یہ کب بدل جائے

بدل چکے گا زمانہ تِرے بدلنے تک

سکون کس کو ملا زندگی کی راہوں میں

غبار اٹھتا رہا قافلہ نکلنے تک


صالح ندیم

No comments:

Post a Comment