Saturday, 1 January 2022

میں خود کشی سے پہلے لکھا گیا آخری خط ہوں

 طبعی موت پر خود کشی کا ماتم


میں اعتراف کرتا ہوں

میں خود کشی سے پہلے لکھا گیا آخری خط ہوں

زندہ رہنے اور اپنے ہمزاد کو گالیاں دینے میں کوئی فرق نہیں

مجھے خود سے سوتیلی ماں جتنی ہمدردی ہے

میں تنہائی کو ذبح کر کے سمندر میں پھینک آیا ہوں

اب میں خود کو

کسی بھی دوسرے شخص کے نام سے پکار سکتا ہوں

سانس لینے کا مشغلہ اختیار کرنا

اور بد صورت لڑکی کو

چائے کی دعوت دینا

بالکل ایک جیسا ناٹک ہے

میں اپنا چہرہ پھاڑ کر پھینک چکا ہوں

اب مجھے کوئی نہیں پہچانتا

جیسے میں نے تمہیں

بے لباس دیکھنے کے بعد

قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا

بوڑھا پن میرے اندر

کسی نادیدہ خوف کی طرح پھیل رہا ہے

ممکن ہے میں کسی دن خود کو 

کہیں رکھ کر بھول جاؤں گا

اپنی یاداشت دفنانے

میں ایک جنگل میں نکل آیا ہوں

پرندے مجھے اپنا بچھڑا ہوا بھائی سمجھ رہے ہیں

درختوں کی خوفناک داڑھیاں

خود کو محفوظ رکھنے کے لیے

میرے تعاقب میں نکل آئی ہیں

پاؤں میں پہنی ہوئی سانسیں

مجھے خود سے لپیٹ لیتی ہیں

اور میں خوفزدہ ہو کر

خود کو کسی گلے میں پھنسا 

مچھلی کا کانٹا محسوس کرتا ہوں

میں خود کو قتل کرنے کے بعد

ایک نظر اپنی لاش کو دیکھوں گا

جیسے نابینا کھلاڑی نے

پرانے صندوق سے ملنے والی لالٹین کو

چھت کے کونے میں پھینک کر

آخری بار حقارت کی نظر سے دیکھا تھا


ذیشان راٹھور

No comments:

Post a Comment