Monday, 17 January 2022

آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی چاہتا ہوں میں

 آنکھوں میں اشک لب پہ ہنسی چاہتا ہوں میں

جو آپ چاہتے ہیں وہی چاہتا ہوں میں

یعنی یہی کہ قفلِ در مے کدہ کھلے

کل چاہتے ہیں آپ ابھی چاہتا ہوں میں

مجرم ہوں میں کہ آج وفا جرم ہی تو ہے

اس جرم کی سزا بھی کڑی چاہتا ہوں میں

اس سے ملوں خود اس کا پتہ پوچھتا ہوا

اے عشق اتنی بے خبری چاہتا ہوں میں

میں خود ہوں اک دلیل، عدم کے وجود پر

پردہ ہوں، اور پردہ دری چاہتا ہوں میں

کیا کیا نقوش میں نے بنا کر مٹائے ہیں

داد کمالِ بے ہنری چاہتا ہوں میں

ہے بات جب کہ پھر کوئی نہ تشنہ لب ملے

اے جبر! اتنی تشنہ لبی چاہتا ہوں میں

خالد! مجھے تو ترک تعلق بھی ہی قبول

دراصل یوں بھی اُن کی خوشی چاہتا ہوں میں


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment