سیہ بادل، ہرا ساون، گھنا جنگل، نہیں ہو گا
اگر ہم تم نہیں ہوں گے یہاں کچھ کل نہیں ہو گا
تِری اس نیلگوں سی شال کو تب کون پوچھے گا
تِرا رنگریز یہ شاعر یہاں جب کل نہیں ہو گا
مجھے بھی جھگڑے دنیا کے کہیں کا پھر نہ چھوڑیں گے
تمہارے پاس بھی فرصت کا کوئی پل نہیں ہو گا
محبت مثلِ کارِ خیر بِن اُجرت ہے عالم میں
تجھےاس میں اے میری جان کچھ حاصل نہیں ہو گا
مجھے بھی وقت کے سورج نے جھلسایا بہت ہو گا
تِرے ان گیسوؤں میں بھی کہیں کوئی بل نہیں ہو گا
اٹھو اس ہجر کے دکھڑے پہ مل کر بات کرتے ہیں
یہ مسئلہ اجتمائی ہے اکیلے حل نہیں ہو گا
بدن کی نقل و حرکت ہم میں ایسا موڑ لائے گی
محبت نام کی شے کا کوئی قائل نہیں ہو گا
بہاروں کے یہ دن محفوظ کر لو سیف آنکھوں میں
جو موسم آنے کو ہے دیکھنے قابل نہیں ہو گا
سیف خان
No comments:
Post a Comment