Saturday, 26 March 2022

کب تلک در بہ در رہا جائے

کب تلک در بہ در رہا جائے

کوئی گھر کو بھی راستہ جائے

میں محبت جتانا چاہتا ہوں 

اس کو تحفے میں کیا دیا جائے

یونہی اٹھے کسی چراغ کی لو

اور سارے جہاں پہ چھا جائے

اس لیے تم کو پھول کہتا ہوں

پھول کو اور کیا کہا جائے

اس کے ہاتھوں کا زہر امرت ہے

سو اسی کو پلا دیا جائے


احمد معاذ

No comments:

Post a Comment