Sunday, 20 March 2022

تم مر جاؤ نا پاپا میں تم سے نفرت کرتا ہوں

محبت کی انتہا پر


 پاپا

تم مر جاؤ نا پاپا

میں تم سے نفرت کرتا ہوں

کش تم لیتے ہو، کھانسی مجھ کو آتی ہے

دل کے دورے تمہیں نہیں

مجھ کو پڑتے ہیں

آخر کب تک

رات میں اٹھ کر

لائٹ جلا کر

دیکھوں گا میں سانس تمہاری

کب تک میری ٹیچر

مجھ کو ٹوکے گی

گم صم رہنے پر

کیسے بتلاؤں

میں کتنا ڈر جاتا ہوں

جب میری رکشا مڑتی ہے

گھر والے رستے پر

آج بھی کم بے چین نہیں میں

موڑ وہ بس آنے والا ہے

چین پڑ گیا

آج بھی میرے گھر کے آگے بھیڑ نہیں ہے

یعنی

آج بھی شاید سب کچھ ٹھیک ہے گھر میں

یعنی تم زندہ ہو پاپا


شارق کیفی

No comments:

Post a Comment