Wednesday, 23 March 2022

عالم ذات میں امکان سے بھاگے ہوئے لوگ

 عالمِ ذات میں امکان سے بھاگے ہوئے لوگ

جا گرے قبر میں شمشان سے بھاگے ہوئے لوگ

جو جہالت سے بچے،۔ علم کی خوراک  بنے

غرقِ دریا ہوئے طوفان سے بھاگے ہوئے لوگ

دوسرا عشق تھا پہلے کی تلافی، لیکن

سود میں گھر گئے نقصان سے بھاگے ہوئے لوگ

اپنی زلفوں میں سجا ان کو معطر کر دے

کاغذی پھول ہیں گلدان سے بھاگے ہوئے لوگ

زندگی چہرے نہ تک، پانی پلا، بیڑیاں کاٹ

ہم ہیں حالات کے زندان سے بھاگے ہوئے لوگ

عید کس دل سے مناتے ہیں ہمیں جانتے ہیں

ہم گنہگار ہیں رمضان سے بھاگے ہوئے لوگ

شعر کہتے ہیں ریاضت کی بنا پر اکثر

ہم سے عرفان سے، وجدان سے بھاگے ہوئے لوگ

اپنے حصے کا عبث ڈھونڈتے ہیں رزق رباب

تنگ دامان یہ مہمان سے بھاگے ہوئے لوگ


رباب حیدری

No comments:

Post a Comment