Wednesday, 23 March 2022

سانس لیجے تو بکھر جاتے ہیں جیسے غنچے

 سانس لیجے تو بکھر جاتے ہیں جیسے غنچے

اب کے آواز میں بجتے ہیں خزاں کے پتے

چڑھتے سورج پہ پڑیں سائے ہم آواروں کے

وہ دِیا اب کے ہتھیلی پہ جلا کر چلیے

شام کو گھر سے نکل کر نہ پلٹنے والے

در و دیوار سے سائے ترے رخصت نہ ہوئے

بے وفا کہہ کے تجھے اپنا بھرم کیوں کھولیں

اے سبک گام ہمیں رہ گئے تجھ سے پیچھے

وا ہو آغوشِ محبت سے جو تنہائی میں

ایسا لگتا ہے کہ ہم پر کوئی سُولی اترے

بات کرتے ہیں تو گونج اٹھتی ہے آواز شکست

اور قدم رکھیں تو گلیوں کی زمیں بج اٹھے

صدیوں میں بھی جو گزاریں تو نہ گزرے یارو

ہائے وہ لمحہ کہ جس میں کوئی پیارا بچھڑے

حشمی گھر کے ستونوں سے لپٹ کر رونا

بے نوائی کے یہ انداز کہاں تھے پہلے


جلیل حشمی

No comments:

Post a Comment