Sunday, 20 March 2022

خاک زادوں کا ہونا بڑی بات ہے

 خاک زادوں کے لیے ایک نظم


خاک زادوں کا ہونا یونہی مت سمجھ

خاک زادوں کا ہونا بڑی بات ہے

خاک پر زندگی کی جو افتاد ہے

خاک زادوں سے ہے

خاکروبوں سے ہے

مل کے مزدور سے

کھیت میں کام کرتے کسانوں سے ہے

گرم بھٹی میں لوہا تپاتے ہوئے

اور درانتی ہتھوڑا بناتے ہوئے

ان لوہاروں سے ہے

اور لوگوں کے پانووں کو کجنے لیے

اور، دھاگے سے چمڑے کو سیتے ہوئے موچیوں

جوتا سازوں سے ہے

تپتی دوپہر میں جھلجھلاتی ہوئی

گرم لو میں پسینہ بہاتے ہوئے

گیلی مٹی سے اینٹیں بناتے ہوئے

ان تھپیڑوں سے ہے

رات دن کولتاروں کی سڑکوں پہ گاڑی چلاتے ہوئے

گاڑی بانوں سے ہے

اور سمندر کے نمکین پانی سے لڑتے ہوئے

اپنے جُسّے کھپاتے ہوئے

مچھلیاں ٹوکروں میں بھرے

ان مچھیروں سے ہے

پھل فروشوں سے ہے

ریڑھی بانوں سے ہے

جو زمینوں سے ہے جو زمانوں سے ہے

خاک زادوں کی محنت کی تانوں سے ہے

خاک زادوں کو ہونا یونہی مت سمجھ


اشکر فاروقی

No comments:

Post a Comment