Wednesday, 23 March 2022

نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

 نہ پوچھو زیست فسانہ تمام ہونے تک

دعاؤں تک تھی سحر اور شام رونے تک

مجھے بھی خود نہ تھا احساس اپنے ہونے کا

تِری نگاہ میں اپنا مقام کھونے تک

ہر ایک شخص ہے جب گوشت نوچنے والا

بچے گا کون یہاں نیک نام ہونے تک

چہار سمت سے رہزن کچھ اس طرح ٹوٹے

کہ جیسے فصل کا تھا اہتمام بونے تک

بتا رہا ہے ابھی تک تِرا دُھلا دامن

کہ داغ بھی ہیں نمایاں تمام دھونے تک

ہزار رنگ تمنا ہزار پچھتاوے

عجب تھا ذہن میں اک اژدہام سونے تک

سنا ہے ہم نے بھی آزاد تھا کبھی عامر

کسی کی چاہ کا لیکن غلام ہونے تک


یعقوب عامر

No comments:

Post a Comment