Thursday, 7 April 2022

بزم سنواروں غزلیں گاؤں

 بزم سنواروں غزلیں گاؤں

جینے کے انداز بناؤں

ہر دم رو رو خون کے آنسو

کیوں آنکھوں کی آب گنواؤں

کب تک دل کے بہکانے پر

تارے گن گن رات بتاؤں

ان کو میرا دھیان نہیں ہے

میں کیوں اپنی جان گنواؤں

میرا غم کس نے کھایا ہے

میں کیوں دنیا کا غم کھاؤں

سب سے ترکِ تعلق کر لوں

خود سے رسم و راہ بڑھاؤں

مرنے والوں کو مرنے دوں

جینے والوں کو اپناؤں

ہر میت کے سرہانے شہرت

نغمے چھیڑوں جشن مناؤں 


شہرت بخاری

No comments:

Post a Comment