Monday, 4 April 2022

جب روز وہ غیروں کی ملاقات کو پہنچے

 جب روز وہ غیروں کی ملاقات کو پہنچے

کیوں ٹھیس نہ پیہم مِرے جذبات کو پہنچے

دن رات غضب اور ستم ڈھائے جنہوں نے

وہ لوگ بہت جلد مکافات کو پہنچے

ہم جب بھی تلاشِ گل و گلزار کو نکلے

بس خارِ مغیلاں کے مقامات کو پہنچے

اس نے ہمیں پل بھر کا بھی دیدار نہ بخشا

ہم سر کے بل اس بت کی ملاقات کو پہنچے

سیلاب ہو آندھی ہو تلاطم ہو بھنور ہو

ہر حال میں ہم تیری مدارات کو پہنچے

غنچوں نے تِرے ناز کی نقلیں تو اتاریں

لیکن نہ کوئی تیرے کمالات کو پہنچے

وہ شعر کوئی شعر نہیں اور ہی شے ہے

جب کوئی بھی قاری نہ تِری بات کو پہنچے

وہ لفظ میں رکھتا نہیں اشعار میں ہر گز

جس لفظ سے کچھ ضعف محاکات کو پہنچے

ناصر! شعراء ہی ترے اشعار کو سمجھیں

ہر شخص کہاں روحِ خیالات کو پہنچے


فیض الحسن ناصر

No comments:

Post a Comment