Friday, 22 April 2022

وہ بھی جا کر وہیں پہ ٹھہرا ہے

 وہ بھی جا کر وہیں پہ ٹھہرا ہے

خوشبوؤں کا جہاں بسیرا ہے

بس یہی سوچنے میں گم تھا میں

آئینہ ہے کہ تیرا چہرا ہے

میرے دل کے مکان میں جاناں

تیرے ہی نام کا پھریرا ہے

تجربوں سے یہ ہو گیا ثابت

زندگی اک حسین صحرا ہے

جس کی امید ہم لگائے تھے

یار کیا یہ وہی سویرا ہے

ایک دو دن میں یہ بھرے گا نہیں

اے اسد! زخم دل کا گہرا ہے


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment