تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا
میں ایسا دریا تھا جس کو کنارا مل نہ سکا
تباہیوں کے مناظر ہر آنکھ روشن تھے
محبتوں کا کہیں استعارا مل نہ سکا
کبھی جو سب کے لیے باعث محبت تھا
مجھے وجود وہ ایسا دوبارا مل نہ سکا
کھلی رہی ہیں ہمیشہ سفر میں آنکھیں مری
نگاہ شوق کو رنگیں نظارا مل نہ سکا
مِری حیات میں تھی جس کے لمس کی گرمی
مِرے نفس کو پھر ایسا شرارا مل نہ سکا
فضائے شہر پہ ہر سمت تھا دھواں نقوی
کہیں پہ کوئی بھی روشن ستارا مل نہ سکا
محمد صدیق نقوی
No comments:
Post a Comment