Thursday, 21 April 2022

تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا

تمام عمر کسی کا سہارا مل نہ سکا

میں ایسا دریا تھا جس کو کنارا مل نہ سکا

تباہیوں کے مناظر ہر آنکھ روشن تھے

محبتوں کا کہیں استعارا مل نہ سکا

کبھی جو سب کے لیے باعث محبت تھا

مجھے وجود وہ ایسا دوبارا مل نہ سکا

کھلی رہی ہیں ہمیشہ سفر میں آنکھیں مری

نگاہ شوق کو رنگیں نظارا مل نہ سکا

مِری حیات میں تھی جس کے لمس کی گرمی

مِرے نفس کو پھر ایسا شرارا مل نہ سکا

فضائے شہر پہ ہر سمت تھا دھواں نقوی

کہیں پہ کوئی بھی روشن ستارا مل نہ سکا


محمد صدیق نقوی

No comments:

Post a Comment