مِرے ہمنوا
مِرے دوستا
کہیں نظم کر
مِری بے بسی
کسی چاکِ گِریہ پہ لا کے دھر
مِری چشمِ نم
کہیں پھینک دے
مِری یہ ہنسی
کوئی چپ سجا مِرے ہونٹ پر
نہ تو اب گمان رہا کوئی
کہ میں اپنے جسم کا آئینہ
کسی طاق میں کہیں دھر سکوں
نہ دلِ خراب کو شوق ہے
کہ ذرا ذرا سا سنور سکوں
مجھے پیڑ کر کہ یہ سانس اب
میرے پھیپھڑوں پہ عذاب ہے
مجھے در بنا، کہ یہ زندگی
کوئی عمر بھر کا سراب ہے
جو تھیں عہدِ رفتہ کی رونقیں
انہیں پھر سے وقت نگل گیا
مِرے سب عزیز بدل گئے
مِرا پاؤں چھاؤں میں جل گیا
وہ جو چار سمت سکون تھا
تِرے خاکِ پا سے اٹا ہوا
مِرے ہر روئیں میں اتر گیا
میں محبتوں کی کہانیاں
نہیں لکھ رہی کہ مِرا قلم
کسی جانے والے کی بے رخی
نہیں سہہ سکا ہے، سو مر گیا
کومل جوئیہ
No comments:
Post a Comment