Thursday, 7 April 2022

نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی

 نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی

کسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کی

خدا سے کیوں نہ مانگوں واہ میں بندوں سے کیا مانگوں

مجھے مل جائے گی جو چیز ہے میرے مقدر کی

تصور چاہئے اے شیخ! سب کا ایک ایما ہے

صدا ہے پردۂ ناقوس میں اللہ اکبر کی

دل راحت طلب کو قبر میں کیا بے قراری ہے

مجھے گھبرائے دیتی ہے اداسی اس نئے گھر کی

کلیجے میں ہزاروں داغ، دل میں حسرتیں لاکھوں

کمائی لے چلا ہوں ساتھ اپنے زندگی بھر کی

سنبھل کر دیکھنا آرائشوں کے بعد آئینہ

یہ آئینہ نہیں ہے اب یہ ٹکڑے ہے برابر کی

مِرے اشعار شاعر داغ و آصف جاہ سے پوچھو

کہ شاہ و جوہری ہی جانتے ہیں قدر گوہر کی


شاعر قزلباش

No comments:

Post a Comment