Thursday, 9 June 2022

کرب انتظار دستک کے انتظار میں

 کرب انتظار 


دستک کے انتظار میں 

میرے گھر کے در جھولنے لگے 

کواڑوں کی چوں چرخ میں 

دستک کب کھو گئی 

علم نہ ہو سکا

جھولتے در، گزراں لمحوں کے سنگ 

بوسیدگی اوڑھتے چلے گئے

اور پھر اک روز باری باری

زمیں بوس ہو رہے 

اب کیسی دستک، کون سی دستک

جب دروازے نہ رہیں 

تو دستک کی نہ حاجت رہتی ہے 

نہ امید اور نہ ہی خواہش


رابعہ درانی

No comments:

Post a Comment