Wednesday, 8 June 2022

خیال تھا کہ گماں کو یقیں بنا دوں گا

 خیال تھا کہ، گماں کو یقیں بنا دوں گا

اور اب یہ خواب لکھوں گا بھی تو مٹا دوں گا

مجھے بھی ساتھ ہی لے لو، مگر نہیں یارو

میں سست رو ہوں تمہاری تھکن بڑھا دوں گا

ہوائے شب مِرے شعلے سے انتقام نہ لے

کہ میں بجھا تو افق تک دھویں اڑا دوں گا

بڑے شباب سے آئے گا سیلِ رنگ اب کے

پھر اس میں میں بھی تو اک جوئے خوں ملا دوں گا

چلو خموش ہوا میں اب اس سکوت کے بعد

نہ شب کو طول نہ ہمسائے کو صدا دوں گا


محشر بدایونی

No comments:

Post a Comment