Tuesday, 7 June 2022

بساط سے کہیں بڑھ کر بڑی لگاتے ہیں

 بساط سے کہیں بڑھ کر بڑی لگاتے ہیں

بچھڑنے والے بھی شرطیں کڑی لگاتے ہیں

کچھ اس طرح ہمیں جکڑا تِری محبت نے

کہ جیسے مجرموں کو ہتھکڑی لگاتے ہیں

کوئی بھی رُت ہو یہ آنکھیں برستی رہتی ہیں

تمہارے دُکھ مِرے اندر جھڑی لگاتے ہیں

نہ کوئی مان ہے رشتوں کا اور نہ عمروں کا

کہ اب تو ہاتھ کے پالے تڑی لگاتے ہیں

طلسمی نیند میں سویا ہوا ہے شہزادہ

جبیں پہ جادو کی کوئی چھڑی لگاتے ہیں

جناب! ان کے تعارف میں اتنا کہنا ہے

کلائی میں بڑی عمدہ گھڑی لگاتے ہیں 


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment