بس یہی سوچ کے خوش باش رہا جانے لگا
تجھ کو افسوس تو ہو، ہاتھ سے کیا جانے لگا
میں نے اک شعر تِرے نام کِیا ہے جب سے
میرا ہر شعر توجہ سے سُنا جانے لگا
لوگ اک دور میں دیواریں چُنا کرتے تھے
پھر تو دیوار میں لوگوں کو چُنا جانے لگا
تجھ کو اک بار مِرے دُکھ پہ ہنسی آئی تھی
پھر ہر افتاد پہ دنیا میں ہنسا جانے لگا
میں نے اس شخص کو جانے کی اجازت کیا دی
میں اسے بھیجنے والوں میں گِنا جانے لگا
میں نے دھو ڈالے نشانات لہو سے اپنے
جب یہ دیکھا کہ تِری سمت کُھرا جانے لگا
مجھ کو اک شخص سے ملنے کی بہت جلدی تھی
اتنی جلدی تھی کہ نیندوں میں چلا جانے لگا
مجھ کو بھگوان کا اوتار سمجھ بیٹھا تھا
آنکھ جھپکی تو پرستار اٹھا، جانے لگا
جیسے شہروں کے کبھی نام پڑا کرتے تھے
ایسے اک دن سے مجھے تیرا کہا جانے لگا
ساجد رحیم
No comments:
Post a Comment