Thursday, 14 July 2022

پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیر

 روئے بھگت کبیر


پوچھ نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیر

پہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میر

چودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیر

روئے بھگت کبیر


اک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بُدھی وان

میٹرو میں جو چائے پلائے بس وہ باپ سمان

سب سے اچھا شاعر وہ ہے جس کا یار مدیر

روئے بھگت کبیر


سڑکوں پر بھوکے پھرتے ہیں شاعر موسیقار

ایکٹرسوں کے باپ لیے پھرتے ہیں موٹر کار

فلم نگر تک آ پہنچے ہیں سید پیر فقیر

روئے بھگت کبیر


لال دین کی کوٹھی دیکھی رنگ بھی جس کا لال

شہر میں رہ کر خوب اڑائے دہقانوں کا مال

اور کہے اجداد نے بخشی مجھ کو یہ جاگیر

روئے بھگت کبیر


جس کو دیکھو لیڈر ہے اور سے ملو وکیل

کسی طرح بھرتا ہی نہیں ہے پیٹ ہے ان کا جھیل

مجبوراً سننا پڑتی ہے ان سب کی تقدیر

روئے بھگت کبیر


محفل سے جو اٹھ کر جائے کہلائے وہ بور

اپنی مسجد کی تعریفیں باقی جوتے چور

اپنا جھنگ بھلا ہے پیارے جہاں ہماری ہیر

روئے بھگت کبیر


حبیب جالب

No comments:

Post a Comment