Monday, 15 August 2022

سوچ رکھے تھے کئی شام سے کام

 سوچ رکھے تھے کئی شام سے کام

پر نہ آگے بڑھا اک جام سے کام

چھوڑیے پاسِ وفا، چارہ گری

یہ تو ہیں دوست بہت عام سے کام

گرم کر لیتے ہیں کھانا خود ہی

یہ بھی لیتے نہیں مادام سے کام

جب کوئی بات نہیں بن پاتی

یار پھر لیتے ہیں ابہام سے کام

کھیلنا کھیلتے جانا، اور بس

یعنی رکھنا نہیں انجام سے کام

شعر نازل ہوا آیت کی طرح

ہم نے جب بھی لیا الہام سے کام

ہم رہے کھوج میں مل جائے ثبوت

اس کا چلتا رہا الزام سے کام

بات جب ہم نے بڑھائی، بولے

آپ عدنان رکھو کام سے کام


عدنان خالد شریف

No comments:

Post a Comment