عارفانہ کلام نعتیہ کلام
غلامی میں دل و جاں کو دلکش سرور آئے
کہ بن کے رحمۃ للعالمیں، میرے حضور آئے
کوئی بے آسرا ہو یا سہارا جس کا نہ کوئی ہو
بن کے سایہ شفقت وہ لے کے رب کا نور آئے
کوئی بھی بزم نامکمل ہے اگر ذکر ان کا نہیں شامل
زمین و آسماں بھی جھوم اٹھیں جو ان کا نام آئے
محبت کی کہانی کیا ہے اور اس کے فسانے کیا
محبت کی ابتداء وہ ہیں جو بن کے انتہاء آئے
میرے دل کی تمنا ہے کہ مجھے مل جائے جام ان کا
لبوں سے لگا جام ان کا پھر مجھ کو بھی عطا آئے
مدینے کی بستی ہو اور مسافر چل رہا ہو راستے میں
اے کاش اس حسیں راہگزر پہ موت مجھ سے ٹکرا جائے
اویس احمد
No comments:
Post a Comment