Tuesday, 20 September 2022

لڑ جاتے ہیں سروں پہ مچلتی قضا سے بھی

 لڑ جاتے ہیں سروں پہ مچلتی قضا سے بھی

ڈرتے نہیں چراغ ہمارے ہوا سے بھی

برسوں رہے ہیں رقص کناں جس زمین پر

پہچانتی نہیں ہمیں آوازِ پا سے بھی

اب اس کو التفات کہوں میں کہ بے رخی

کچھ کچھ ہیں مہرباں سے بھی کچھ کچھ خفا سے بھی

چھپ کر نہ رہ سکے گا وہ ہم سے کہ اس کو ہم

پہچان لیں گے اس کی کسی اک ادا سے بھی

دل کانپ کانپ اٹھتا ہے عزمِ گناہ پر

مل جاتی ہے سزا ہمیں پہلے خطا سے بھی

اکثر ہوا ہے یہ کہ خود اپنی تلاش میں

آگے نکل گئے ہیں حدِ ماسوا سے بھی


عمر انصاری

عمر لکھنوی

No comments:

Post a Comment