Tuesday, 20 September 2022

کیا دیکھا اگر تو نے مدینہ نہیں دیکھا

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


یوں ابر کہیں اور برستا نہیں دیکھا

کیا دیکھا اگر تو نے مدینہ نہیں دیکھا

میں بن کے قلم رقص میں رہتا ہوں ورق پر

کیا جشنِ ولادتﷺ کا مہینہ نہیں دیکھا

جو مسجدِ نبوی کی ادب گہ میں ہے جاری

دنیا نے کسی بردے کا سجدہ نہیں دیکھا

ہر طاق میں اشکوں کے دیے رکھتی تھیں آنکھیں

تُو نے شبِ رخصت مِرا رونا نہیں دیکھا

ضو خود ہو رقم لوحِ دل و جاں پہ سرِ شب

مدحت کے سوا ایسا وظیفہ نہیں دیکھا

کس موسمِ شاداب کی رہتی ہے تمنا

کیا چشمِ فلک، گنبدِ خضرا نہیں دیکھا

تم مفلس و نادار نہ کہتے مجھے صاحب

شاید ابھی منگتے کا یہ کاسہ نہیں دیکھا

ممنون ہے انگشتِ پیمبرﷺ کا ابھی تک

لوگوں نے کبھی چاند کا چہرہ نہیں دیکھا

تصویرِ ادب بن کے مواجھے میں کھڑی ہے

خوشبو کا کبھی تُو نے سراپا نہیں دیکھا

امشب بھی ریاض آپ نے اربابِ ثنا کا

کیا اوجِ ثریا پہ نصیبہ نہیں دیکھا


ریاض حسین چودھری

No comments:

Post a Comment