Friday, 7 October 2022

اسیر شام تنہائی سے یہ آخر گلہ کیسا

 اسیرِ شامِ تنہائی سے یہ آخر گِلہ کیسا

تجھے تو علم تھا زنجیر کا میری 

جو پیروں میں بھی ہے اور روح پر بھی

میں اپنے بخت کی قیدی 

میری زندگی میں نرم آوازوں کے جگنو 

کم چمکتے ہیں 

فصیلِ شہرِ غم پر خوش صدا طائر 

کہاں آ کر ٹھہرتے ہیں 

تِری آواز کا ریشم میں کیسے کاٹ سکتی تھی 

مِرے بس میں اگر ہوتا تو ساری عمر 

اس ریشم سے اپنے خواب میں بُنتی 

اور اس رِم جھم کے اندر بھیگتی رہتی 

تجھے تو میرے دُکھ معلوم تھے جاناں 

یہ کس لہجے میں تُو رُخصت ہوا مجھ سے


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment