فلمی گیت
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم گزرا زمانہ بچپن کا
ہائے رے اکیلے چھوڑ کے جانا اور نہ آنا بچپن کا
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھیل وہ ساتھی وہ جھولے وہ دوڑ کے کہنا آ چھو لے
ہم آج تلک بھی نہ بھولے وہ خواب سہانا بچپن کا
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی سب کو پہچان نہیں یہ دو دن کا مہمان نہیں
مشکل ہے بہت آسان نہیں یہ پیار بھلانا بچپن کا
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم ۔۔۔۔۔۔۔۔
مل کر روئیں فریاد کریں ان بیتے دنوں کو یاد کریں
اے کاش کہیں مل جائے کوئی جو میت پرانا بچپن
آیا ہے مجھے پھر یاد وہ ظالم ۔۔۔۔۔۔۔۔
آنند بخشی
No comments:
Post a Comment