Monday, 3 October 2022

کتنے افسانوں کا ہوتا ہے جنم رات گئے

 کتنے افسانوں کا ہوتا ہے جنم رات گئے

بول اٹھتے ہیں جو پتھر کے صنم رات گئے

ٹُوٹ جاتا ہے ستاروں کا بھرم رات گئے

جگمگاتے ہیں تِرے نقشِ قدم رات گئے

کیا بتائیں، جو گُزرتی ہے ہمارے دل پر

یاد آتے ہیں جو اپنوں کے ستم رات گئے

غرق ہو جاتی ہے جب نیند میں ساری دنیا

جاگ اٹھتے ہیں ادیبوں کے قلم رات گئے

روز آتے ہیں، صدا دے کے چلے جاتے ہیں

دِل کے دروازے پہ کچھ اہلِ کرم رات گئے

روک لیتی ہے تِری یاد سہارا بن کر

ڈگمگاتے ہیں اگر میرے قدم رات گئے

جن کی امید میں ہم دن کو جیا کرتے ہیں

ٹوٹ جاتے ہیں، وہی قول و قسم رات گئے

جن کی قسمت میں نہیں دن کا اجالا منصور

ان چراغوں میں جلا کرتے ہیں ہم رات گئے


منصور عثمانی

No comments:

Post a Comment