وہ جن کی گفتگو میں جون کی گرمی کی شدت ہو
تو پھر ان مہ جبینوں سے دسمبر روٹھ جاتا ہے
ادا پہ ناز کرتے ہیں، دلوں کو توڑ دیتے ہیں
سنا ایسے حسینوں سے دسمبر روٹھ جاتا ہے
تکبر جن کا شیوہ ہو، طبعیت میں ہو فرعونی
زمین کے ان مکینوں سے دسمبر روٹھ جاتا ہے
جہاں رشتوں کی فصلوں کی حسد سے آبیاری ہو
نگر کی ان زمینوں سے دسمبر روٹھ جاتا ہے
خدا لگتی کے چکر میں جو پردے چاک کرتے ہیں
سنا ہے اُن کمینوں سے دسمبر روٹھ جاتا ہے
افتخار افی
افتخار عثمانی
No comments:
Post a Comment