میں جس گمان میں رہتا ہوں ایک مدت سے
وہ اس گمان کی حد کو تو چُھو کے دکھلائے
مجھے بھلا یہاں کیسے سمجھ سکے کوئی
خود اس تلاش میں لمبے سفر سے ہو آئے
اذیتوں کا، دُکھوں کا ہجوم رہتا ہے
مجھے قریب سے دیکھے کوئی تو مر جائے
بہت سے لوگ مجھے روز آ کے ملتے ہیں
کوئی تو ہو مجھے آ کے مجھ سے ملوائے
میں رات دیر تلک سوچتا رہا خود کو
وہ سو گئے ہیں جنہوں نے گناہ گِنوائے
کاشف سلطان
No comments:
Post a Comment