Wednesday, 2 November 2022

تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی

 تم کو احساس کی دولت نہیں ملنے والی

مر کے بھی مجھ کو محبت نہیں ملنے والی

کھا لیے وقت کی تلخی نے سُریلے لہجے

اب وہ پہلی سی حلاوت نہیں ملنے والی

یہ نئے دور کے بچے ہیں بڑے لگتے ہیں

ان میں معصوم شرارت نہیں ملنے والی

ضبط کرنے سے گزارا نہیں ہونے والا

ظلم سہنے سے شرافت نہیں ملنے والی

گر مسلط ہی رہا ہم پہ گھٹن کا موسم

سانس تو حسب ضرورت نہیں ملنے والی

چونکہ اب زر نے خریدی ہے سیاہی اختر

اب کسی حرف کو حُرمت نہیں ملنے والی


شیراز اختر

No comments:

Post a Comment