Wednesday, 2 November 2022

نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگ

 نارسائی کا چلو جشن منائیں ہم لوگ 

شاید اس طرح سے کچھ کھوئیں تو پائیں ہم لوگ 

ریت ہی ریت اگر اپنا مقدر ٹھہرا 

کیونکہ پھر ایک گھروندا ہی بنائیں ہم لوگ 

جسم کی قید کوئی قید نہیں ہوتی ہے 

آؤ سب جھوٹی حدیں توڑ کے جائیں ہم لوگ

اس بدلتے ہوئے موسم کا بھروسا بھی نہیں 

گیلی مٹی پہ کوئی نقش سجائیں ہم لوگ 

روک پائیں گے نہ لمحات کے موسم ہم کو 

ایک دیوار زمانہ تو ہوائیں ہم لوگ 

اپنے جذبات کے پاکیزہ تحفظ کے لیے 

کبھی ملبوس کبھی گرم ردائیں ہم لوگ

کوئی سورج نہ کسی رات کے دامن میں گرا 

مانگتے ہی رہے صدیوں سے دعائیں ہم لوگ 

چاند اترا نہیں اب تک بھی زمیں پر شبنم

ایک مدت ہوئی دیتے ہیں صدائیں ہم لوگ


رفیعہ شبنم عابدی

No comments:

Post a Comment