Tuesday, 1 November 2022

میرا خط اس نے جب پڑھا ہو گا

 میرا خط اس نے جب پڑھا ہو گا

اشک آنکھوں میں آ گیا ہو گا

جب غریبوں کے کام آؤ گے

مہرباں تب کہیں خدا ہو گا

میری دنیا سے دور ہو جاؤ

مجھ کو شکوہ نہ کچھ گلہ ہو گا

بکھری بکھری ہے روشنی ہر سو

دل کسی کا یہاں جلا ہو گا

لیتی رہ تو دعا بزرگوں کی

اس میں تیرا بہت بھلا ہو گا

ہم سمجھتے نہ تھے کہ اتنا بھی

تم سے ایک روز فاصلہ ہو گا

جو برا چاہے گا مِرا انجم

دیکھنا اس کا ہی برا ہو گا


فریدہ انجم

No comments:

Post a Comment