کرو گے جان کے کیا حالِ دل، اداسی ہے
مِرے نصیب میں اک مستقل اداسی ہے
وہ اوڑھے پھرتی ہے اک شال اداسیوں سے بھری
وہ آنکھ، وہ چہرہ، وہ گیسو، وہ تِل اداسی ہے
بس ایک پل کے لیے دھڑکنوں سے تال ملا
بس ایک پل کے لیے آ کے مل، اداسی ہے
یہ میرا دل ہے یہاں اور کچھ نہیں اگتا
یہاں کی مختصراً آب و گِل اداسی ہے
بس ایک بار ذرا مسکرا کے دیکھ مجھے
بس ایک بار مِرے دل میں کھل، اداسی ہے
ہے سانس پھانس کی صورت گلے میں اٹکی ہوئی
دھری ہے سینے پہ پتھر کی سِل، اداسی ہے
میں آج بھولے سے اک بار کیا ہنسا عارف
اسی سمے سے بہت مشتعل، اداسی ہے
عارف نسیم فیضی
No comments:
Post a Comment