Saturday, 5 November 2022

آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں

آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں

یہ تو ہمارے اپنے خیالوں کے داغ ہیں

میری ہتھیلیوں پہ جو مہندی سے رچ گئے

یہ آنسوؤں میں بھیگے رومالوں کے داغ ہیں

باہر نکل کے جسم سے جاؤں تو کس طرح

سانکل کہیں کہیں پہ یہ تالوں کے داغ ہیں

تم جن کو کہہ رہے ہو مِرے قدموں کے نشاں

وہ سب تو میرے پاؤں کے چھالوں کے داغ ہیں

کاجل میں گھل کے اور زیادہ نکھر گئے

اشکوں کو یہ نہ کہنا خیالوں کے داغ ہیں

حل ہوتے ہوتے اس کی نتیجے پہ آ گئے

جتنے جواب ہیں وہ سوالوں کے داغ ہیں

آتے ہی میرے پاس جو اکثر چھلک پڑے

ہونٹوں پہ میرے ایسے ہی پیالوں کے داغ ہیں

ایسے بھی لوگ ہیں جو ستاروں کو دیکھ کر

کہتے ملیں ہیں یہ تو اجالوں کے داغ ہیں

جو مجھ میں دیکھتے ہیں مِرے بھی ہیں اے کنور

کچھ ان میں مجھ کو دیکھنے والوں کے داغ ہیں


کنور بے چین

No comments:

Post a Comment