سورج سے رس بھنور سے تو ساحل کشید کر
صحرا کے ذرے ذرے سے محمل کشید کر
ان رائیگانیوں سے کنارہ نہ کر قبول
لا حاصلی کے کرب سے حاصل کشید کر
بھر تو ستارہ وار اُڑانیں فلک کے پار
اور لا مکاں سے پھر کوئی منزل کشید کر
جذبوں کی حدتوں سے تو برفاب کھینچ لے
مینائے عشق سے تو مِرا دل کشید کر
تسخیر کر فشارِ رگِ آفتاب کو
قوسِ قزح سے پھر حدِفاصل کشید کر
امکان سے تحیر و شیشے سے عکس چھین
ظلماتِ شب سے تو مہِ کامل کشید کر
غم ہائے نارسائیِ ذوقِ طلب سمیٹ
ارزانیوں سے شوق کی مشکل کشید کر
بادہ و انگبیں سے مِرے خال و خد سنوار
مانی کے شاہکار سے اک تل کشید کر
سوزِ دروں تراش کسی برف زار سے
یخ بستہ اشک مے کے مقابل کشید کر
انجم شرارِ شوق ہے ہنگامۂ الست
بندِ حجاب سے اسے غافل کشید کر
انجم عثمان
No comments:
Post a Comment