Friday, 4 November 2022

عشق کو پاس وفا آج بھی کرتے دیکھا

 عشق کو پاس وفا آج بھی کرتے دیکھا

ایک پتھر کے لیے جی سے گزرتے دیکھا

پست غاروں کے اندھیروں میں جو لے جاتی ہیں

وہ اڑانیں بھی تو انسان کو بھرتے دیکھا

جبھی لائی ہے صبا موسم گل کی آہٹ

برگ افسردہ ہوئے شاخوں کو ڈرتے دیکھا

تِری دہلیز پہ گردش کا گزر کیا معنی

تجھ کو جب دیکھا ہے کچھ بنتے سنورتے دیکھا

بے صدا ہی سہی پر سنگ صفت ہیں لمحے

ان کی آغوش میں ہر شے کو بکھرتے دیکھا

جو بھی بیتی سر فرہاد پہ بیتی نجمی

کسی پرویز کو تیشے سے نہ مرتے دیکھا


حسن نجمی سکندرپوری

No comments:

Post a Comment