Thursday, 3 November 2022

بیتے ہوئے لمحوں کے جو گرویدہ رہے ہیں

 بیتے ہوئے لمحوں کے جو گرویدہ رہے ہیں

حالات کے ہاتھوں وہی رنجیدہ رہے ہیں

ان جلووں سے معمور ہے دنیا مِرے دل کی

آئینوں کی بستی میں جو نادیدہ رہے ہیں

رندانِ بلا نوش کا عالم ہے نرالا

ساقی کی عنایت پہ بھی نمدیدہ رہے ہیں

برسوں غم حالات کی دہلیز پہ کچھ لوگ

گل کر کے دئیے ذہنوں کے خوابیدہ رہے ہیں

ہر دور میں انسان نے جیتی ہے یہ بازی

ہر دور میں کچھ مسئلے پیچیدہ رہے ہیں

انسان کی صورت میں کئی رنگ کے پتھر

ہم سینے پہ رکھے ہوئے خوابیدہ رہے ہیں

مجرم کی صفوں میں ہیں وہ مظلوم بھی جن سے

نجمی نے جو کچھ پوچھا تو سنجیدہ رہے ہیں


حسن نجمی سکندرپوری

No comments:

Post a Comment