Friday, 2 December 2022

جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف

 جب سے اس نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف

اس کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف

میں نے اب تک جتنے بھی لوگوں میں خود کو بانٹا ہے

بچپن سے ہی رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف

ایک طرف مجھے جلدی ہے اس کے دل میں گھر کرنے کی

ایک طرف وہ کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف

یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے، لیکن

تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف

اس کی آنکھوں نے مجھ سے میری خودداری چھینی ورنہ

پاؤں کی  ٹھوکر سے کر دیتا تھا میں دنیا ایک طرف


تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment