اب اور کتنی بتا ہم تجھے صفائی دیں؟
تُو اپنے زعم سے نکلے تو ہم دکھائی دیں
تمہیں تو ٹھیک سے دل مانگنا نہيں آتا
تمہارے ہاتھ میں کیا کاسۂ گدائی دیں؟
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ ذرا سی خاموشی
اب اتنے شور میں ہم کیا تمہیں سنائی دیں
خدا گواہ تم اتنے حسین ہو کہ تمہیں
ہمارے بس میں اگر ہو تو ہم خدائی دیں
یہ لوگ بسترِ حرص و ہوس سے جا لگے ہیں
انہیں دعا نہيں لگتی، انہیں دوائی دیں
ہمارا لکھا غلط پڑھ رہے ہیں لوگ ابھی
کہاں سے لا کے انہیں حرفِ آشنائی دیں
یہ ٹھیک ہے کہ کریں وقف عیش دنیا بھی
مگر خدا کے لیے گھر بھی کچھ کمائی دیں
ہمارے دل کے در و بام تک تو آ گئے ہو
تمہی کہو کہ تمہیں اور کیا رسائی دیں؟
عمران عامی
No comments:
Post a Comment