Saturday, 11 March 2023

صبر کی تلوار سے صدمات پر حملہ کیا

 صبر کی تلوار سے صدمات پر حملہ کیا

اس طرح میں نے برے حالات پر حملہ کیا

کھول کر زلفیں، کیا سورج کی تابانی کو زیر

رخ سے کچھ پردہ ہٹا کر رات پر حملہ کیا

کیوں خیالوں میں بھی شہنائی نہیں بجتی کہیں

کس نے یادوں کی حسیں بارات پر حملہ کیا

صرف خاموشی کئے رکھی جواباً اختیار

اس طرح اس نے مِری ہر بات پر حملہ کیا

مذہبی عالم،۔ سیاسی رہنما،۔ پیر مغاں

جس نے جب چاہا مِرے جذبات پر حملہ کیا


تہذیب ابرار

No comments:

Post a Comment