گرچہ سینے میں دبی درد کی حدت رکھنا
اپنے چہروں پہ سجی لوحِ مسرت رکھنا
کتنا آسان ہے افکار کا چرچا کرنا
کتنا مشکل ہے یہ افکار سلامت رکھنا
خون دل کتنا چراغوں کو بہم پہنچائیں
صبح کے واسطے اندازۂ ظلمت رکھنا
اک نظر جس کی پلٹ دیتی ہے دل کی دنیا
ذہن میں ایسے ہی کردار کی عظمت رکھنا
بے نوا بچے کو سینے سے لگایا تھا کبھی
زادِ راہ ساتھ یہ تم بہرِ شفاعت رکھنا
بھیڑئیے لاکھ ملیں بھیس میں انسانوں کے
کچھ بھی ہو جائے بس انساں سے محبت رکھنا
یہ ہمیشہ سے ہے فنکار کی عظمت کا امین
تم سدا پیشِ نظر حرف کی عظمت رکھنا
راہِ الفت کا سفر جی کا زیاں ہے دانش
چل ہی نکلے ہو تو سادات کی عزت رکھنا
عقیل دانش
No comments:
Post a Comment