Tuesday, 10 October 2023

جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گے

 جب کبھی ہوں گے تو ہم مائلِ غم ہی ہوں گے

ایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گے

ہم تو زخموں پہ بھی یہ سوچ کے خوش ہوتے ہیں

تحفۂ دوست ہیں جب یہ، تو کرم ہی ہوں گے

بزمِ عالم میں جب آئے ہیں تو بیٹھیں کچھ اور

بس یہی ہو گا نا، کچھ اور ستم ہی ہوں گے

جب بھی بربادِ وفا کوئی نظر آئے تمہیں

غور سے دیکھ لیا کرنا، وہ ہم ہی ہوں گے

کوئی بھٹکا ہوا بادل، کوئی اڑتی خوشبو

کون کہہ سکتا ہے اک دن یہ بہم ہی ہوں گے


بشر نواز

No comments:

Post a Comment