Wednesday, 10 January 2024

بدن سے لڑتے ہوئے ضد پہ ڈٹ گیا اک دن

 بدن سے لڑتے ہوئے ضد پہ ڈٹ گیا اک دن

جو ایک درد تھا، آخر کو گھٹ گیا اک دن

ہمارے چہرے کو چھوڑو یہ ایسا دِکھتا ہے

غُبارِ وقت سے گر دل بھی اٹ گیا اک دن

مزاج کوئی بھی رہتا نہیں ہے دیر تلک

جو مجھ سے دُور کھڑا تھا لپٹ گیا اک دن

وہ آبلہ مِری رفتار جو بڑھاتا تھا

مسافتوں میں کہیں پر وہ پھٹ گیا اک دن

فقیہِ شہر جسے اختلاف تھا تجھ سے

سُدھر گیا کہ وہ رستے سے ہٹ گیا اک دن

زوال آتا ہے صحرا پہ آج دیکھ لیا

جو مجھ میں پھیلا ہُوا تھا سمٹ گیا اک دن

مجھے گُماں تھا کہ میرا ہے صرف میرا ہے

وہ ایک دریا تھا رستوں میں بٹ گیا اک دن

کنارے تھا تو مسلسل اُداس تھا صابر

سمندروں کو سفینہ پلٹ گیا اک دن


صابر چودھری

No comments:

Post a Comment