Wednesday, 10 January 2024

سوئے ہوؤں کو پھر سے جگانے کی ٹھان لی

 سوئے ہوؤں کو پھر سے جگانے کی ٹھان لی

پھر اس نگر کو ہم نے بسانے کی ٹھان لی

نفرت کے بیج آپ نے بوئے تو کیا ہُوا

اُلفت کے پُھول ہم نے کِھلانے کی ٹھان لی

ناراض ہو گئے ہیں وہ چھوٹی سی بات پر

اس بار ہم نے بھی نہ منانے کی ٹھان لی

فرعونیت کا راج تو قائم ہے آج بھی

لختِ جگر کو ماں نے بہانے کی ٹھان لی

تفریق ڈالنا گو ہے شیوہ جناب کا

بچھڑے ہوؤں کو ہم نے منانے کی ٹھان لی

ہر کوئی مُضطرب تھا اُجالا ہو کس طرح

اپنے ہی گھر کو آگ لگانے کی ٹھان لی

صابر! جہاں میں ظُلم کا مانا کہ راج ہے

ہم نے بھی تختِ شاہی گِرانے کی ٹھان لی


فاروق صابر

No comments:

Post a Comment