Thursday, 4 January 2024

کوئی دام فن میں الجھ گیا کوئی شہر فکر میں کھو گیا

 کوئی دامِ فن میں اُلجھ گیا، کوئی شہرِ فکر میں کھو گیا

یہ جو دورِ مرگِ خیال تھا، مِرا دل یہیں لہُو رو گیا

میں سما گیا تھا بہار میں، کسی رنگ و بُو کے غُبار میں

یہ کمالِ دستِ خِزاں ہی تھا کہ خار دل میں چبُھو گیا

جو اسیرِ خواب و خیال ہے، تو پلٹنا اُس کا محال ہے

یہاں مت رُکو اے مُسافرو! سرِ شام ہی تو وہ سو گیا

کبھی گردِ راہ ہے کہکشاں، کبھی سیرِ دشتِ نجُوم ہے

یہ مِرے جنُوں کا کرشمہ ہے، میں کہا کہاں نہیں ہو گیا

وہ گئے سفینۂ عشق پر کہ مِلے گی بادِ طرب کہیں

مگر ایک موجِ بلائے غم کا تھپیڑا اُن کو ڈبو گیا

وہ کسی سے آنکھ مِلا سکا، نہ کسی کو اپنا بنا سکا

تِری بزم سے، تِری چشم سے، تِرے دل سے رُوٹھ کے جو گیا


انیس انور

No comments:

Post a Comment