Thursday, 4 January 2024

ستمگر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں

 ستمگر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں

ہمیں فریاد کی عادت ہے ہم فریاد کرتے ہیں

متاع زندگانی اور بھی برباد کرتے ہیں

ہم اس صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں

ہواؤ ایک پل کے واسطے للہ رک جاؤ

وہ میری عرض پر دھیمے سے کچھ ارشاد کرتے ہیں

نہ جانے کیوں یہ دنیا چین سے جینے نہیں دیتی

کوئی پوچھے ہم اس پر کون سی بیداد کرتے ہیں

نظر آتا ہے ان میں بیشتر اک نرم و نازک دل

مصائب کے لیے سینے کو جو فولاد کرتے ہیں

خدا کی مصلحت کچھ اس میں ہوگی ورنہ بے حس بت

کسے شاداں بناتے ہیں کسے ناشاد کرتے ہیں

نہیں دیکھا کہیں جو ماجرائے عشق میں دیکھا

کہ اہل درد چپ ہیں چارہ گر فریاد کرتے ہیں

اسیر دائمی گر دل نہ ہو تو اور کیا ہو جب

کہیں وہ مسکرا کر جا تجھے آزاد کرتے ہیں

کیا ہوگا کبھی آدم کو سجدہ کہنے سننے سے

فرشتے اب کہاں پروائے آدم زاد کرتے ہیں

ہمیں اے دوستو چپ چاپ مر جانا بھی آتا ہے

تڑپ کر اک ذرا دل جوئی صیاد کرتے ہیں

بہت سادہ سا ہے اے کیف اپنے غم کا افسانہ

وہ ہم کو بھول بیٹھے ہیں جنہیں ہم یاد کرتے ہیں


سرسوتی سرن کیف

No comments:

Post a Comment