زعفرانی غزل
بکری مانگے گی اب نیا بکرا
"ناطے سب توڑ کر گیا بکرا "
چار دن میں گُھلا مِلا ایسے
جیسے ہو سب کا آشنا بکرا
ہو گیا ہضم گوشت کھاتے ہی
آنچ ہلکی پہ جب پکا بکرا
بکریاں ہو گئی ہیں تیز بہت
تُو ابھی تک وہی رہا بکرا
بیوی تو مِل گئی تھی ایسے ہی
پر، بہت ڈھونڈنا پڑا بکرا
غزالہ فیضی
No comments:
Post a Comment