Sunday, 7 January 2024

وہ یقیناً دامن امن و اماں میں آ گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


وہ یقیناً دامنِ امن واماں میں آ گیا

جو پناہ سیدِ کون و مکاںﷺ میں آ گیا

آپؐ کا اسمِ مبارک لیتے ہی گرداب میں

رحمتوں کا ایک جھونکا بادباں میں آ گیا

روشنی پھیلی اندھیرے چھٹ گئے رستے کُھلے

لا مکاں سے میم کا سورج مکاں میں آ گیا

سننے والے کہہ اُٹھے؛ اللہ کا فرمان ہے

حق تعالیٰ کا بیان ان کے بیاں میں آ گیا

راہ سے بھٹکے ہوئے کو رہبری سونپی گئی

خُوش نصیبی سے نبیؐ کے کارواں میں آ گیا

آپﷺ نے اللہ اکبر کہہ دیا تو یک بیک

زلزلہ ہر بُت کدہ کے آستاں میں آ گیا

تلخ کامی میں درودِ پاکﷺ بھیجا آپؐ پر

رحمتوں کا ذائقہ نُطق و زباں میں آ گیا

آفتابِ حشر کی گرمی سے بچنا تھا مجھے

میں شفیع المذنبیںؐ کے سائباں میں آ گیا

شکریہ رزمی ادا ہوتا عدم میں کس طرح

نعت کہنے کے لیے میں اس جہاں میں آ گیا


بشیر رزمی

No comments:

Post a Comment