کشمیر کا دکھ
یہ گُلوں کی دھرتی ہے اور زمیں کی جنت ہے
اس کو مت اُجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
سرزمین کاشر کی، وادیاں حسیں کتنی
برف کے لبادے میں ہیں یہ دلنشیں کتنی
برف سے بہاروں تک جو ہے خوبصورت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
منفرد تمدّن کے بانیوں کا مسکن ہے
مختلف مذاہب کے حامیوں کا آنگن ہے
اس حسین گُلشن میں کیوں یہ بربریت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
امن اور تحفظ کا تھا سماج صدیوں سے
پیار کا مروّت کا تھا رواج صدیوں سے
اب تو ہر قدم پہ یاں خوف اور نفرت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
بے خبر ہیں غافل ہیں، نفرتیں جو بوتے ہیں
فصل جب یہ پکتی ہے پھر کھڑے وہ روتے ہیں
زندگی کا حاصل تو اصل میں محبت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
انتہا پسندی کی پھر فضا بنی کیوں ہے
ظُلم اور تشدد کی پھر ہوا چلی کیوں ہے
اس طرح کی بستی کی پیار ہی ضرورت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
کیوں بِنائے مذہب ہم گھر کو منہدم کر دیں
ایک ہی ثقافت کو خُود ہی منقسم کر دیں
حل تو سب مسائل کا عدل اور وحدت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
باشعور لوگوں سے ملتمس ہوں صابر میں
نظم کو چلانا ہے خود تمہی کو کاشر میں
اس سفر میں زادِ راہ عقل ہے بصیرت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
یہ گُلوں کی دھرتی ہے اور زمیں کی جنت ہے
اس کو مت اجاڑو یوں، سب سے میری منت ہے
فاروق صابر
No comments:
Post a Comment